بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سونے چاندی اور نقد رقم کی زکوٰۃ

سوال

آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس سونا نصاب کی مقدار سے زائد ہے،ساڑھے سات تولہ سے زیادہ اور چاندی بھی نصاب کی مقدار سے زائد ہے ساڑھے باون تولہ سے زیادہ اور کچھ نقدی بھی ہے۔اب وہ زکوٰۃ کس نصاب کے لحاظ سے ادا کرے گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں آپ سونا اور چاندی کی بازاری قیمت معلوم کرلیں اور اس کی کل مالیت اور نقد رقم کے مجموعے کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ میں دے دیں۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143410200025
تاریخ27-08-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں