بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ویڈیو کو گواہی کے طور پر پیش کرنا

سوال

ویڈیو کی شرعی حیثیت کیا ہے؟کیا اسے بطور شہادت پیش کیا جا سکتا ہے؟ کیا ویڈیو دیکھنے والا گواہ بن سکتا ہے کہ میں نے اس آدمی کو ویڈیو میں یہ کام کرتے دیکھا ہے۔

جواب

جاندار کی ویڈیو بنانا اور دیکھنا حرام اور گناہ ہے اور اسے شریعت میں بطور شہادت پیش نہیں کیا جا سکتا،گواہی صرف آنکھوں دیکھے واقعہ پر دی جا سکتی ہے۔ نیزویڈیو میں ایڈیٹنگ کے ذریعے تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143410200012
تاریخ18-08-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں