بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گواہ کے بغیر نکاح کرنا

سوال

میں نے ایک عاقل بالغ لڑکی کو اکیلے میں بٹھا کر تین دفعہ بولا کہ میں تم کو اپنے نکاح میں لیتا ہوں،اس نے کہا قبول ہے،قبول ہے،قبول ہے۔اس طرح وہ میرے نکاح میں آگئی یا نہیں؟دونوں نے پہلےسے طے بھی کیا تھا گناہ سے بچنے کے لئے اکیلے میں نکاح کر لیں گے،گواہوں کے بغیر نکاح ہو گیا یا نہیں۔نہ مہر مقررکیا نہ گواہ اور وکیل تھے۔

جواب

نکاح کے منعقد ہونے کے لئے شرط یہ ہے کو دو عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہو۔اگر بغیر گواہوں کے موجودگی کے کسی نے ایجاب و قبول کر لیا تو اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا اور دونوں میاں بیوی نہیں بن جاتے بلکہ اجنبی ہی رہتے ہیں۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143410200010
تاریخ18-08-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں