بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی میراث پر کسی ایک بیٹے کا قبضہ کر لینا

سوال

اگر ایک آدمی کے دو بیٹے ہوں جاوید اور عثمان،وہ خود وفات پا جائے اور جائداد اس کے نام پر نہ ہو،اس کی وفات کے بعد اس کا بڑا بیٹا جاوید خرچہ کر کے جائداد اپنے نام پر کروالے اور اپنے دوسرے بھائی عثمان کو حصہ نہ دے تو کیا یہ جائز ہے؟کیوں کہ نام پر کروانے کا خرچہ جاوید نے کیا ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں جو جائداد والد مرحوم کی تھی وہ ان کے تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہو گی چاہے وہ ان کے نام پر ہو یا کسی اور کے نام پر ہو،کسی ایک بیٹے کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی طرف سے خرچہ کر کے اس جائداد کو اپنے نام پر کروالے اور دوسرے ورثاء کو محروم کردے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143410200009
تاریخ18-08-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں