بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشت زنی کی صورت میں روزہ کا حکم

سوال

1۔ اگر کسی نے روزہ کی حالت میں مشت زنی کرلی ہو اور اس کو پتہ نہ ہو کہ اس سے روزہ خراب ہوجاتا ہے، تو اس کا کیاحکم ہوگا؟

2 اگراس پر کفارہ بنتاہے اور وہ کفارہ کے روزے نہیں  رکھ سکتا ہو تو کیا کرے؟

3کفارہ رقم کی صورت میں ادا کرسکتاہے؟

4اگررقم کی صورت میں ادا کرسکتاہے تو وہ کتنی رقم بنتی ہے؟

جواب

مشت زنی کرنے سے بہر صورت روزہ فاسدہوجاتاہے،  پتہ ہو یانہ ہو ، اور اس کی قضا لازم ہوتی ہے؛ اس لیے  مشت زنی کے ذریعہ جتنے روزے فاسد کیے ہیں  اتنے ہی روزوں کی قضا لازم ہوگی ، کٖفارہ اس صورت میں لازم نہیں ہوگا، البتہ مذکورہ گناہ سرزد ہونے پر  صدق دل سے توبہ واستغفار لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143410200005
تاریخ13-08-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں