بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میعادی چیک کی اصل قیمت سےکمی کے ساتھ خرید وفروخت

سوال

از محمد بن احمد حسین مظاہری احمداباد گجرات الہند کیا فرماتے ہے علماء کرام اس مسئلہ کہ بارے میں کہ میعادی چیک کی اصل قیمت سےکمی کے ساتھ خرید وفروخت کیسی ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلا پچاس ہزار کا چیک ہے اور دو ہفتے کے بعد قابل وصولی ہے ، توقبل از وقت اس رقم کو حاصل کرنے کے لئے چیک کا مالک پینتالیس ہزار ہی میں اس چیک کو فروخت کر دیتا ہے ،فروخت کنندہ کو وہ رقم کم ملتی ہےلیکن وقت سے پہلے مل جاتی ہے خریدار کو رقم دیر سے وصولی ہوتی ہے لیکن نفع کے ساتھ حاصل ہو تی ہے کیا اس طرح کا معاملہ جائز ہے یا نہیں؟کیا اس طرح کے سودوں کی کویئ جائز شکل ہے؟سائلحمد بن احمد حسین مظاہری23 رمضان 1434

جواب

مذکورہ معاملہ جائز نہیں ھے، سود میں داخل ھے، اور نہ ہی اس کے جواز کی کوئی شکل ھے، واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143409200055
تاریخ03-08-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں