بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفر کی حالت میں روزہ کا حکم

سوال

السلام علیکم میں 21جولائ کو اٹلی سے پاکستان روانہ ھونگا اور 22 جولائ کو پہچونگا، ھمارا ماہِ رمضان پاکستان سے ایک دن پہلے شروع ھوا تھا، 1 کیا میں ایک روزہ چھوڑ کرسکتا ہوں، اس لیے کے میں مسافر ھونگا؟ 2 میں ان شاءاللہ اپنے بقیہ روزے پاکستان میں پورے کرونگا جو چاند کے حساب سے 29 یا 30 ہونگے،سفر کی وجہ سے جو میرا ایک روزہ چھوٹے گاکیا میں اسکی قضاءکرونگا جبکہ میری کل گنتی 29 یا 30 ہی رہیگی، اگر میں قضاء کرونگا تو میری گنتی 31 ھو سکتی ھے، اضافی روزہ کی کیا حیثیت ھوگی؟

جواب

1 سائل سفر کی وجہ سے ایک روزہ چھوڑ سکتا ھے جس کی بعد میں قضاء لازم ھوگی۔ 2 سائل پاکستان آنے کے بعد یہاں کے چاند کاتابع ھوگا، البتہ اگر سائل کے 30 روزے پورے ھو جاتے ھیں تو سائل کے ذمّہ 31 روزہ لازم نہیں ھوگا،البتہ اس دن اگر سائل روزہ رکھے گا تو نفل ھوگا،اگر نہ رکھے تو پھر روزہ داروں کےسامنے کھانے پینے کی اجازت نہیں ھوگی، واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143409200015
تاریخ17-07-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں