بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کا مرد ڈاکٹر سے علاج یا سرجری کروانا

سوال

السلام علیکم! آج کل عموما ہسپتالوں میں مرد اور عورت ڈاکٹر مریضوں کا علاج ،چیک اپ کرتے ہیں، بالخصوص سرجری کے دوران خاتون مریض ہو تو مرد اور عورت دونوں ڈاکٹر ہوتے ہیں، کیا ایسے میں خاتون مریض اپنا علاج کروا سکتی ہے؟ یہاں تک کہ زچگی کے آپریشن میں بھی مرد و عورت ڈاکٹر دونوں ہوتے ہیں؟

جواب

اگر خواتین کے علاج یا آپریشن کے لیئے خاتون ڈاکٹر میــسر ہو تو اس صورت میں تو مرد ڈاکٹر سے علاج معا لجہ یا آپریشن کروانے کی اجازت نہیں ہے، البتہ اگر کسی جگہ خواتین ڈاکٹر موجود نہ ہوں اور مرد ڈاکٹر سے علاج معالجہ یا سرجری کروانا ناگزیرہو تو ضرورت کے بقدر جسم کھول کر مرد ڈاکٹر سے بھی سرجری کروانے کی گنجائش ہے۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143409200013
تاریخ17-07-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں