بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مزارات پر جانے کا شرعی حکم

سوال

السلام علیکم : سوال ہے کہ مزارات پر جانا کیساہے ؟ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ قبروں کو پختہ مت بناؤں اور ان کو اونچامت کروتو اس حدیث کے روشنی میں تو مزارات کا بناناہی ناجائز ہوگاتو وہاں جاناکیسے جائز ہوسکتاہے ۔

جواب

حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت کی یاددہانی کے لئے وقتافوقتا قبرستان جانے کی ترغیب دی ہے اس لئے قبرستان یامزارات پر تذکیر آخرت کی نیت سے جانا جائز بلکہ مطلوب ہے بشرطیکہ وھاں جا کر کسی قسم کے شرکیہ افعال وبدعات کا ارتکاب نہ کیا جائے ۔باقی اگر کوئی قبروں کو پختہ اور اونچاکرنے کاناجائز عمل کرتا ہے تو اس کی وجہ سے وہ گناہگار تو ہوگا لیکن اس کے اس عمل کی وجہ سے زیارت قبور کا عمل ممنوع نہیں ٹھرے گا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143409200010
تاریخ17-07-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں