فوت شدہ نمازوں کا کفارہ
سوال
السلام علیکم، بالغ ہونے کے بعد جو نمازیں رہ جاتی ہیں تو کیا ان کا فدیہ یا کفارہ وغیرہ رقم کی صورت میں دے سکتے ہیں،اس میں کوئی قباحت تو نہیں ہے؟ اگر دے سکتے ہیں تو کتنا ہوگا؟ جزاک اللہ۔
جواب
فوت شدہ نمازیں قضاء کرنا ضروری ہیں ، ان کا کفارہ اس وقت تک نہیں دیا جا سکتا جب تک انسان اپنی صحت سے اس قدر مایوس نہ ہو جائے کہ اس کو یقین ہو جائے کہ اب وہ زندگی میں ان نمازوں کا ادا نہیں کر سکے گا تب جا کر وہ اپنی زندگی میں ان فوت شدہ نمازوں کا فدیہ ادا کردے یا مرتے وقت اس کی وصیت کر جائے۔باقی جب تک صحت باقی ہے اس وقت تک ان نمازوں کا قضاء کرنا ہی لازم ہے۔
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143408200022
تاریخ04-07-2013

