بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوھر بیوی سے کتنے عرصہ تک جدا رہ سکتا ھے؟

سوال

معزّز مفتیان کرام صاحبان کیا فرماتے ہیں اس بارے میں کہ کیا شوھر کے لیئے جائز ھے کہ اپنی بیوی سے بات بات میں جھوٹ بولے اور جوان بیوی کو گھر میں اکیلا چھوڑ کر ہفتوں دفتری کام سے باھر رہے؟

جواب

1جھوٹ بولنا کسی سے بھی جائز نہیں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلّم سے جھٹ کو بڑے گناہوں میں شمار فرمایاھے۔ 2 فتنہ کے اس دور میں جوان بیوی کو ھفتوں تنہا چھوڑنا میاں بیوی دونوں کے لیئے مناسب نہیں ھے نیز اس میں بیوی کی حق تلفی بھی ھے، حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے توعبادات میں بھی اتنے زیادہ انھماک سے منع فرمایا ہے جس سے بیوی کی حق تلفی ہو تو دفتری کاموں میں اتنا مصروف رھنا کہ ہفتوں ہفتوں بیوی کی خبر نہ ہوبطریقِ اولی ناجائز ھے۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143408200021
تاریخ04-07-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں