بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حج قران میں طواف قدوم کو ترک کرنا

سوال

آج کل حاجی جب جدہ ائیرپورٹ پہنچتے ہیں تو انکو ایک کتابچہ دیا جاتا ہے حج کے بارے میں۔اس میں حج قران کے لیے لکھا ہوتا ہے۔کہ حج قران میں طواف قدوم کی ضرورت نہیں بلکہ جو پہلا عمرہ کیا جائے گا۔اسی میں طواف قدوم اور حج کی سعی ہو جائیگی۔تو آج کل اگر کوئی ساتھی 6ذالحج یا 7 کو وہاں پہنچے ۔جبکہ اسوقت طواف کا ایک چکر بھی بہت مشکل سے ہوتا ہے۔جبکہ عمرہ کے بعد طواف قدوم کرنا تو اور بھی مشکل ہے۔تو کیا اپنے گروپ والوں کو کہا جاسکتا ہے۔کہ زیادہ رش کی وجہ سے طواف قدوم معاف ہے؟کیا شریعت میں کی کوئی گنجائش ہے ۔نیز سعودی علماء کا عمرہ کو ہی طواف قدوم اور حج کی سعی کہنا صحیح ہے؟

جواب

طوافِ قدوم حج قِران میں سنّت ھے، اس کی ادائیگی کا اھتمام کرنا چاھئیے، البتہ رش یا کسی بھی عذر کی وجہ سے اس کی ادائیگی مشکل ھو تو ترک کرنے کی وجہ سے کوئی دم لازم نھیں آتا اور نہ ھی حج کی ادائیگی پر فرق پڑھتاھے ۔ ھمارے نزدیک عمرہ کی ادائیگی سے طوافِ قدوم کی ادائیگی نھیں ھوتی۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143408200011
تاریخ17-06-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں