بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شبِ براءت کی حقیقت

سوال

شبِ براءت کی حقیقت کیا ھے، اس رات میں حلوہ پکانا، قبرستان جانا یہ سب کیسا ھے؟ اس بارے میں کوئی جامع کتاب بتادیں؟

جواب

بعض احادیث میں 15 شعبان کی رات جس کو شبِ براءت کھتے ھیں کے فضائل وارد ہوئے ہیں، اس رات اللہ پاک کی طرف سے مغفرت ورحمت کی خصوصی وعدے احادیث میں آئے ھیں، اس لئے اس رات عبادت کا اھتمام اور اگلے دن روزہ رکھنا مستحب ھے، اسی طرح ایک مرتبہ حضور صلّٰی اللہ علیہ وسلّم اس رات قبرستان بھی تشریف لے گئے تھے، تو اس کی اتّباع میں زندگی میں ايك آدھ بار اس رات قبرستان جانے کی بھی گنجائش ھے، البتہ اس کو اس رات کا لازمی جزء سمجھنا جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے، غلط اور بدعات پر مشتمل ھونے کی وجہ سے قابلِ ترک ھے، باقی حلوہ پکانا، چراغاں کرنا سب غلط ھے۔ مزید تفصیل کے لئے مولانا یوسف لدھیانوی شھید رحمہ اللہ کے مواعظ اور مفتی عبد الروءف سکھروی صاحب کی کتاب شبِ مغفرت کامطالعہ کرلیں۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143407200026
تاریخ31-05-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں