بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دلالی کی اجرت لینا

سوال

السلام علیکم میرے پاس ایک پلاٹ ہے ہری پور میں، وہاں ٹیلی کام کمپنی والے ٹاور لگانا چاہتے ہیں، کمپنی کا ایک شخص میرے بھائی کا جاننے والا ہے، وہ ٹاور لگانے کے بدلے کمیشن مانگ رہا ہے۔ فرض کرلیں اگر ٹاور لگانے کے وہ ہمیں 15 لاکھ دیں گے تو اس میں سے 5 لاکھ وہ لے گا۔ برائے مہربانی مجھے قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلہ کا حل بتادیں۔ کیا شرعی طور پر ایسا جائز ہے؟ اگر وہ ہم سے پیسے لے تو کیا یہ جائز ہوگا؟شکریہ

جواب

مذکورہ شخص جو کمیشن مانگ رہا ہے وہ دراصل رشوت کا تقاضا کررہا ہے اس لیے ٹاور لگانے کے بدلے اسے کچھ دینا رشوت ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143407200016
تاریخ29-05-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں