بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لنڈے کے مال کی خرید و فروخت

سوال

آج کل جو بازاروں میں لنڈے کا مال ملتا ہے جو باہر ملک سے آتا ہے اس کا استعمال کا اور خریدنے کا کیا حکم ہے؟اور کبھی کبھی ان میں سے کچھ پیسے وغیرہ اور دوسری چیزیں نکلتی ہیں ان چیزوں کا کیا حکم ہے؟

جواب

مذکورہ مال کی خرید و فروخت جائز ہے البتہ استعمال سے پہلے ان کو دھو کر پاک ہونے کا اطمینان کر لینا چاہیئے، باقی ان میں سے نکلنے والی اشیاء صدقہ کردینی چاہیئے۔اگر مستحق ہو تو خود بھی استعمال کرسکتا ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143406200084
تاریخ20-04-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں