بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نیوی ھاسٹل کے مصلّی کی بجلی کا ذاتی استعمال

سوال

میں پاکستان نیوی میں سپاہی ھوں، اور ابھی ھماری کراچی میں ٹریننگ چل رھی ھے، ھماری رھائش والی عمارت میں ھم نے نماز کے لیئے کمرہ مخصوص کیا ھے جہاں پانچ وقت باجماعت نماز ادا کی جاتی ھے، لیکن رات 10 بجے کے بعد تمام کمروں کی لایٹیں بند کر دی جاتی ھیں تو سب لوگ مسجد میں آکرپڑھائی شروع کردیتے ہیں جو کہ دنیاوی علوم ھیں یعنی فزکس، ریاضی، الیکٹریسٹی،الیکٹرونکس وغیرہ، تو میرا سوال یہ ھے کہ کیا مسجد میں یہ کتابیں پڑھنا جائز ھے یا نہیں؟

جواب

مذکورہ کمرہ چونکہ باقاعدہ مسجد نہیں ھے بلکہ مصلّی ھے، اس لیئے مسجد کے احکام اس جگہ پر جاری نہیں ھوتے۔ البتہ اس جگہ کی بجلی کا ذاتی استعمال وھاں کی انتظامیہ کی اجازت پر موقوف ھے، اگر انتظامیہ کی طرف سے صراحۃ اجازت ھے یا ان کے علم میں یہ بات ھونے کے باوجود ان کی طرف سےکوئی ممانعت نہیں ھےتو طلبہ کے لیئے اس مصلّی کی روشنی میں بیٹھ کر پڑھائی کرنا جائز ھے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143406200061
تاریخ30-04-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں