بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میں تمھیں طلاق

سوال

ايك ادمي نے مزاق میں اپنی بیوی ميسيج لکھا﴿ميں تمھيں طلاق طلاق﴾ اس کا ارادہ تھا کہ اگے لکھوں گا نھيں ديتا ہوں مگريہ لکھےبغير ہي ميسيج بھيج ديا جلدي ميں اوردوسرےميسيج ميں لکھانھيں ديتا ہوں مذکورہ صورت ميں طلاق واقع ہوگی یا نھيں عمرشجاع کراچی

جواب

صورت مسئولہ میں سائل نے پہلے پیغام میں چونکہ طلاق دینے یا نہ دینے کا لفظ نہیں کہا تھا اس لئے اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی اور دونوں کا رشتہ بدستور قائم ہے،تاہم آئندہ اس طرح کے جملے کہنے یا لکھنے سے بہت زیادہ پرہیز کرے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143406200050
تاریخ26-04-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں