بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تقسیم وراثت

سوال

میرے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کا پہلی بیوی سے ایک بیٹا بھی ہے جبکہ پہلی بیوی کو طلاق دے دی گئی تھی۔ میری کوئی اولاد نہیں۔ اب شوہر کی جائیداد میں سے تقسیم کس طرح ہو گی۔

جواب

سائلہ کے شوہرکے ترکہ میں سے سب پہلے قرض کی ادائیگی کی جائے گی اگر ان پر قرض ہو پھر ان کی وصیت کو ایک تہائی مال سے پورا کیا جائے گا اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو اس کے بعد جو مال بچے گا اس میں سے بیوی کو آٹھواں حصہ دیا جائے گا اور باقی تمام مال میت کے بیٹے کا ہوگا جبکہ میت کی مطلقہ بیوی کی عدت اگر پوری ہوچکی ہے تو ان کو میراث سے حصہ نہیں دیا جائے گا ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143406200047
تاریخ24-04-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں