بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آبائی گاؤں میں نماز کاحکم

سوال

میری پیدائش کوئٹہ کی ہے میرا آبائی گاؤں مانسہرہ بٹل ہے ۔ وہاں دادا کی وراثت میں ایک مکان ہے ، جوکہ چار چچاؤں اور تین پھوپھیوں میں مشترک ہے ۔میرے والد صاحب بھی وفات پاگئے ہیں ۔ میری شادی چچاکے گھر ہوئی ہے، میں اسلام آباد میں ملازم ہوں، اب کیا میں اپنے گاؤں مانسہرہ میں پوری نماز پڑھوں گا یاقصر ؟جب کہ میں 15 دن سے کم کے لیے جایاکرتاہوں؟

جواب

اگر آپ نے آبائی گاؤں سے مستقل طورپر رہائش ختم کرلی ہے تو آپ وہاں مسافر ہوں گے اورقصرکریں گے۔اگر وہاں سے سکونت ختم نہیں کی ہے تو مقیم ہوں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143406200031
تاریخ20-04-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں