بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نظر لگنے کے ڈر سے خوشخبری کو چھپانا

سوال

مير ے رشتہ داروں کے ہاں سات سال بعد اولاد کی خوشخبری آئی ہے ، جس کی وجہ سے ہم پریشان ہیں کہ نظر نہ لگ جائے اس لئے ہم جاننا چاہتے ہیں کہ نظر لگ جانے کی ہماری دین اسلام میں کیاحقیقت ہے ؟ کیانظر لگتی ہے ؟ کیااس نیت سے ہم خوشخبری کو چھپاسکتے ہیں ، تفصیل سے بتادیں ۔جزاک اللہ

جواب

احادیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہےکہ نظر کا لگ جاناحق ہے اور نظرلگ جانے کے اثرات بسااوقات بہت گہرے بھی ہوسکتے ہیں ، اس لئے اگر نظر لگنے کا اندیشہ اور ڈرہے ، تو اس کیلئے تدبیر کے طورپر خوشخبری کو راز میں بھی رکھنے کی گنجائش ہے ، نیز اسکے ساتھ ساتھ معوذتین اور نظرسے حفاظت کی دعاؤں کا اہتمام بھی کرتے رہناچاہئے ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143406200015
تاریخ20-04-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں