بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ووٹ کس کو دیا جائے؟

سوال

موجودہ دور میں کس پارٹی اور شخص کو ووٹ دیا جاۓ اور علماء اس معاملے میں اپنی ذمہ داری کس طرح اداکریں؟ والسلام

جواب

واضح رہے کہ کسی پارٹی یا شخص کو ووٹ دیا جائے تو درحقیقت یہ تعیین کسی دارالافتاٗ یا مفتی کا منصب نہیں ہے بلکہ ہر شخص کے اپنے ضمیر اور بصیرت پر مبنی ہے کہ وہ جس جماعت کو دین، ملک و ملت کے مفاد میں زیادہ بہتر سمجھتا ہو اور جنکا منشور ملک وملت کے دینی مفاد میں زیادہ مفید ہو ان کو ووٹ دیکر انکی حمایت کرے۔نیکی کے کاموں میں نیک لوگوں کے ساتھ تعاون باعث ثواب اور فسق و فجور اور گناہ کے کاموں اور اس میں ملوث افراد کے ساتھ تعاون کرنا اور انکو مضبوط کرنا باعث گناھ اور قابل مواخذہ ہے۔علماء کی ذمہ داری یہی ہے۔ فقط واللہ اعلم۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143406200010
تاریخ20-04-2013

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں