بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مروجہ اسلامی بینک میں رقم لگانے کاحکم

سوال

مولاناصاحب میں پوچہنا چاھتا ھوں ک پاکستان میں اسلامک بینکنگ بہت فروغ پا رھی ھے۔کیا یہ ٹھیک ھے؟ ھم نےعسکری اسلامک بینک میں پیسے جمع کرواے ہے۔یہ پیسے فکس نہیں ہے۔ہم کسی بھی وقت ان کو نکلوا سکتے ہیں۔اور بینک والے ھمیں ھر مہینے کچھ منافع دیتے ھیں ۔مولانا صاحب یہ بتا دے کہ اسلام میں یہ جائز ہے؟ یہ سود تو نہیں ہے؟اور اسلام میں منافع کے کیا اصول ہے۔ مہربانی فرما کر مولانا صاحب اسلام کے مطابق جلدی اور مفصل جواب دیں۔

جواب

1 مروجہ اسلامی بینکاری کے متعلق اب تک کی ہماری تحقیق اور معلومات کے مطابق مذکورہ بینکنگ سسٹم اسلامی اصولوں کے مطابق جائزنہیں ہے اورمذکورہ بینکوں میں رقم رکھ کر اس پرنفع حاصل کرناجائزنہیں ہے۔2 اسلام میں منافع کے اصول کیاہیں؟ یہ ایک تفصیل طلب سوال ہے، مختصریہ کہ : نفع ونقصان میں شرکت ہو، حقیقی کاروبارمیں رقم لگائی جائے، کاروباراسلامی اصول کے مطابق جائزہو، اور نفع متعینہ رقم کی صورت میں نہ ہووغیرہ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200703
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں