بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فورکس کاروبار کی شرعی حکم

سوال

کیا انٹرنٹ پر "فورکس" کا کاروبار یعنی کرنسی کی خرید و فروخت کا کاروبار جائز ہے ؟ فورکس ایک قسم کا کاروبار ہے جس میں بندہ کرنسی خریدتا ہے اور قیمت بڑھ جانے پر اسے بیچتا ہے

جواب

مختلف ممالک کی کرنسی کی خرید وفروخت بشرطیکہ ادھار نہ ہو تو جائز ہےمگر لوگ کرنسی خریدتے ہیں اور قیمت بڑھنے پر آگے فروخت کرتے ہیں اور قبضہ ملنے کا بھی انتظار نہیں کرتے ہیں ایسی خریدوفروخت ناجائز ہے۔لوگوں کو عمومی تصور یہ ہے کہ وہ رسک کی منتقلی کو قبضہ کا قائم مقام سمجھتے ہیں حالانکہ رسک یعنی نفع ونقصان کی ذمہ داری قبضہ کے بدلے کافی نہیں ہوتی ۔واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200690
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں