بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کریڈت کارڈ سے رقم کی ادائیگی

سوال

کریڈٹ کارڈ سے ہم جو رقم کی ادائیگی کرتے ہیں امتحان کی فیس لندن اور امریکہ میں توآسانی سے ادائیگی ہو جاتی ہے،اور اگر ڈرافٹ وغیرہ بناتے ہیں تو وقت لگتا ہے اور کبھی ضائع بھی ہو جاتا ہے،اور یہ ادائیگی سود سے خالی ہوتی ہیں،تو کیا یہ جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کریڈٹ کارڈ بنواتے وقت صارف بینک سے یہ معاہدہ کرتا ہے کہ اگرواجب الادا رقم کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی تو اضافی رقم بطور سود ادا کروںگا،اس سودی معاہدہ کرنے کی وجہ سے کریڈٹ کارڈ کا استعمال شرعا نا جائز ہے۔اگر چہ صارف اس بات کا اہتمام بھی کر لے کہ رقم کی ادائیگی میں تاخیر نہ ہو تب بھی معاہدہ پر دستخط کرنے کی وجہ سے یہ ناجائز ہے،اگر وقت پر ادائیگی کرلی تو سودی لین دین کا گناہ تو نہیں ہوگا البتہ سودی معاہدہ کا گناہ برقرار رہے گا۔ فقط واللہ اعلم۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200686
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں