بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گناہ کے خیالات پر مواخذہ

سوال

کیا اسلام میں غلط سوچنا گناہ کا سبب ہے؟ یا گناہ عمل کرنے کے بعد ملتا ہے؟

جواب

بلا قصد و ارادہ غلط اور فاسد خیالات کا آجانا یا غلط سوچ کا آنا تو شرعاً گناہ کا سبب نہیں ہے، اس پر مواخذہ نہیں ہوگا، البتہ غلط سوچنا اور فاسد خیالات کو پختہ ارادے کے ساتھ دل و دماغ میں دہرانا یہ دل و دماغ کا گناہ شمار ہوگا، اسی طرح اگر از خود آنے والے فاسد خیالات کے مطابق اگرعمل کرلیا گیا تو پھر گناہ کے عمل کے ساتھ ساتھ پچھلے مراحل کا بھی مواخذہ ہوگا۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200649
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں