مہرفاطمی کی مقدار
سوال
مفتی صاحب! مجھے آپ سے یہ سوال پوچھنا ہے کہ مہر کی صحیح مقدار کیا ہے۔؟مہر فاطمی کی مقدار کیا ہے؟ چاندی کی صورت میں ۔کم سے مہر کی مقدار کیا ہے؟ چاندی کی صورت میں۔براہِ مہربانی جواب دیکرعنداللہ ماجور ہوں۔
جواب
مہر کی زیادہ سے زیادہ شرعاً کوئی مقدار متعین نہیں ہے۔ زوجین کی باہمی رضامندی سے کچھ بھی مقرر کیا جاسکتا ہے، البتہ بہت زیادہ مہر رکھنے کو شریعت نے پسند نہیں کیا۔
مہر فاطمی کی مقدار احادیث میں ساڑھے بارہ اوقیہ منقول ہے اور ایک اوقیہ چالیس درھم کا ہوتا ہے تو اس حساب سے مہر فاطمی پانچ سو درھم بنتے ہیں۔ موجودہ دور کے حساب سے اس کی مقدار ایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی ہے۔ اور گرام کے حساب سے 1.5309 کلو گرام چاندی ہے۔
اور کم از کم مہر کی مقدار دس درھم ہے۔ چاندی کے حساب سے اس کی مقدار بحساب گرام 30.618 گرام چاندی اور تولہ کے حساب سے 31.5 ماشہ چاندی بنتی ہے۔
مہر فاطمی کی مقدار احادیث میں ساڑھے بارہ اوقیہ منقول ہے اور ایک اوقیہ چالیس درھم کا ہوتا ہے تو اس حساب سے مہر فاطمی پانچ سو درھم بنتے ہیں۔ موجودہ دور کے حساب سے اس کی مقدار ایک سو اکتیس تولہ تین ماشہ چاندی ہے۔ اور گرام کے حساب سے 1.5309 کلو گرام چاندی ہے۔
اور کم از کم مہر کی مقدار دس درھم ہے۔ چاندی کے حساب سے اس کی مقدار بحساب گرام 30.618 گرام چاندی اور تولہ کے حساب سے 31.5 ماشہ چاندی بنتی ہے۔
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143101200642
تاریخ01-01-2010

