بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جانور اور پرندے پالنے کاشوق

سوال

کسی شخص کو جانور پالنے کا شوق ہو تو کیا وہ جانور کو پال سکتا ہے؟ مثال کے طور پر پرندے وغیرہ یا مچھلی وغیرہ بعض لوگ کہتے ہیں یہ تو ان کو قید کرنا ہے توکیا اس بات کی کوئی حقیقت ہے؟

جواب

جانور پالنا جائز ہے بشرطیکہ ان کے کھانے پینے اور صفائی ستھرائی کا اہتمام کیا جائے۔ حدیثِ مبارک میں ایسے شخص کے بارے میں سخت وعید آئی ہے جو جانور کو قید کرکے اسے کھانا پینا بھی نہیں دیتا اور نہ اسے آزاد کرتا ہے کہ وہ خود اپنا کھانا پینا تلاش کریں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200640
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں