بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز فجر کے اہتمام کا طریقہ

سوال

نماز فجر کا اہتمام کس طرح کیا جاۓ؟

جواب

فجر کی نماز مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے حدیث میں ہے کہ فجر کی نماز منافقین پر بہت بھاری ہوتی ہے عام طور سے مسلمان نیند کے غلبے اور سستی سے اس نماز کوچھوڑ دیتے ہیں ۔فجر کی نماز میں کوتاہی عموما رات کوزیادہ دیر تک جاگنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ فجر کے اہتمام کے لیے رات کو جلد سونے کا معمول بنایا جائے بلاضرورت عشا کے بعد نہ جاگے اس کے علاوہ انسان رات کو سونے سے پہلے دل میں فجر کی نماز پڑھنے کا پکا ارادہ کرلے اور صبح جاگنے کے لیے حتی الوسع الارم وغیرہ بھی لگالے تو صدق نیت اور پختہ عزم کے ذریعہ فجر میں اٹھا جاسکتا ہے جیسے رمضان میں سحری کے لیے صدق نیت اور پختہ عزم کے ساتھ اٹھنا ممکن ہوجاتا ہے۔ فقط واللہ اعلم۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200632
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں