بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لانگ روٹ کے ڈرائیوروں کے لیے مسائل سفر

سوال

میں لانگ روٹ کا ڈرائیور ہوں، فی الوقت میں کویت میں کام کررہا ہوں، وہاں سے میں دبئی سامان لے جاتا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ میری نماز اور سنتوں کے بارے میں مجھے سمجھائیں اور وتر پڑھنا ہوگی دوران سفر؟ اور فجر کی سنتیں؟ اور روزوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ برائے کرم جواب سے نوازیں۔

جواب

سائل کا جب اپنی جائے اقامت سے 78 کلو میٹر یا اس سے زائد سفر کا ارادہ ہو تو حدود شہر سے نکلنے کے بعد دوران سفر: 1- چار رکعت والی فرض نماز قصر کرکے دو رکعت پڑھنی ہوں گی۔ 2- فجر کے علاوہ بقیہ نمازوں کی سنتیں پڑھنے کے بارے میں اختیار ہے، پڑھیں تو ثواب اور نہ پڑھیں تو کوئی گناہ نہیں ہے البتہ اگر سفر کے دوران کسی جگہ ٹھہر گئے تو پھر سنت پڑھنا افضل ہے۔ 3- وتر بہرحال پڑھنا واجب ہے۔ 4- فجر کی سنتیں بھی بہرصورت ادا کرنے کا حکم ہے۔ 5- روزہ کے بارے میں اختیار ہے کہ چاہے دوران سفر رکھیں اور چاہے تو سفر کے بعد دوران سفر رہ جانے والے روزوں کی قضاء کرلیں، البتہ دوران سفر رکھنا افضل ہے۔ یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک کسی جگہ پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت نہ ہو۔ اگر کسی جگہ پندرہ دن یا اس سے زائد قیام کی نیت کرلی تو پھر تمام نمازیں مکمل پڑھی جائیں گی اور روزہ رکھنا بھی ضروری ہوگا۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200628
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں