بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا ایک کمرہ میں نماز پڑھنا

سوال

اگر میاں اور بیوی ایک ہی کمرہ میں انفرادی نماز ادا کررہے ہوں تو اس کے لیے کن چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟ مثلاً  کیا میاں کو بیوی سے کچھ آگے نماز پڑھنی چاہیے؟ اگر اتنا قریب ہوں کہ جسم کا کوئی حصہ آپس میں چھو جائے تو کیا اس سے نماز میں فرق پڑتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

جواب

میاں بیوی جب انفرادی نماز پڑھ رہے ہوں تو  ان کے بالکل برابر کھڑے ہونے یا کچھ فاصلے سے برابر کھڑے ہونے یا بیوی کے آگے ہونے کی صورت میں نماز تو فاسد نہیں ہوگی، لیکن اس طرح نماز ادا کرنا مکروہ ہے، لہٰذا کمرے میں جگہ ہو تو مرد کو آگے کھڑا ہونا چاہیے، اسی طرح دونوں کا بالکل متصل ہوکر نماز پڑھنا کہ جسم مس کرے، ناپسندیدہ ہے، درمیان میں ایک نمازی کا فاصلہ چھوڑ دینا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200625
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں