خواتین کے لیے لفظ ''جزاک اللہ'' کا صحیح تلفظ
سوال
ہم نے ایک عالمہ سے سنا ہے کہ خواتین کو جزاکَ اللہ کے بجائے جزاکِ اللہ کہنا چاہیے۔ اس لیے کہ خواتین کے لیے یہی لفظ مخصوص ہے۔ میں اس اہم مسئلہ کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ آپ سے گزارش ہے، برائے مہربانی مجھے یہ فتویٰ دیں کہ آیا یہ بات درست ہے یا نہیں؟
جواب
مذکورہ عالمہ صاحبہ نے غلطی کی صحیح نشاندہی کی ہے کہ، اگر کسی خاتون کو مخاطب کر کے مذکورہ دعائیہ کلمات کہے جائیں تو اس کے لیے مؤنث ہی کی ضمیر کا استعمال کرتے ہوئے جزاکِ اللہ ''ک'' کے زیر کے ساتھ کہا جائے، یہی بہتر ہے۔
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143101200594
تاریخ01-01-2010

