بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نا جائز اولاد سے شادی حکم

سوال

میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا کسی کی ناجائزاولاد سے شادی جائزہےیانہیں؟

جواب

جائزتوہےالبتہ بہترنہیں ہےاس لیےکہ نکاح میں شریعت اس بات کی ترغیب دیتی ہےکہ لڑکا،لڑکی کےانتخاب کےوقت خاندانی شرافت کوبھی پیش نظررکھاجائےتاکہ ازداوجی زندگی کےلیےاورہونےوالی اولاد کی اچھی تربیت کےلیےمفیدثابت ہو۔ اخلاق کی پاکیزگی میں خاندانی شرافت کابڑادخل ہوتاہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200585
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں