بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرنسی نوٹوں کی لین دین میں کمی زیادتی کا حکم

سوال

یہاں پر مارکیٹ میں ایک طریقہ کار کے مطابق کرنسی نوٹ خریدے جاتے ہیں ۔وہ طریقہ یہ ہے کہ پھٹے پرانے کرنسی نوٹ جن کا نمبر بھی بسا اوقات درست نہیں ہوتا ،کچھ لوگ کم قیمت پر خریدتے ہیں۔ یہ نوٹ ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ بینک بھی انہیں قبول نہیں کرتا اور نہ تبدیل کرتا ہے۔ خریدار کہتے ہیں کہ ہم اسے اسٹیٹ بینک لے جاکر تبدیل کرتے ہیں ۔اس معاملے میں راہنمائی فرمائیں ؟

جواب

نوٹ یا سکے جوایک ملک کے ہوتے ہیں اورایک ہی قسم کی مالیت رکھتے ہیں اگرچہ پرانےاورنئےہوں ان کاآپس میں تبادلہ مساوی طورپرہاتھ درہاتھ جائزہے لیکن کمی زیادتی کے ساتھ تبادلہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائزہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200571
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں