بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام مسجد سے متعلق اشکالات

سوال

ایک خطیب صاحب کومسجد کے منتظمین اورنمازیوں نے مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پرامامت کے منصب سے فارغ کردیاہے۔1۔ مولاناصاحب سے چندمواقع پرواضح غلط بیانی اورجھوٹ بولنا پایاگیاہے۔2۔ مولاناصاحب سےاپنے بیٹے کی بےجاحمایت کئی مرتبہ پائی گئی، جس نےمسجدکےقاری صاحب کےساتھ واضح بدتمیزی بھی کی اوردوآدمیوں کےسامنےاس کا اعتراف بھی کیا اوراس معاملے میں بھی مولاناصاحب نےاپنے بیٹے کی بےجاحمایت کی۔3۔ اورمولاناصاحب کی قرأت کی واضح غلطیاں اورنمازمیں بےجاجلدی سے بھی لوگ حددرجہ نالاں ہیں۔4۔ اورمولاناصاحب کوان وجوہات کی بناء پرلوگوں نے مصلیٰ سے پیچھے کیا ہے، پوچھنا یہ ہےکہ ایسے مولاناصاحب کامصلیٰ پرتسلط جماکرلوگوں کو مرعوب کرکےمصلیٰ پرقابض رہنااورنمازیں پڑھاناقرآن وسنت کی روسےجائزہےیاناجائزہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب امام صاحب کو منصب امامت سے ہٹادیاگیاہےاوروہ امام مسجدنہیں رہے تواب ان کے اقوال وافعال سے متعلق فتویٰ حاصل کرناشرعی لحاظ سے سودمندنہیں کیونکہ ان کےافعال امامت کےجوازاورعدم جوازکے لیے پیش کیا جاتا ہےاوراب وہ امام نہیں ہیں توجوازوعدم جوازکا مسئلہ ختم ہوا، آگےوہ انفرادی طورپراپنے اعمال کاخوداللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دارہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200567
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں