بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

10محرم کے روزے کی شرعی حیثیت

سوال

9 یا 10 محرم الحرام کو روزہ کیوں رکھتے ہیں ؟تفصیل سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

عاشورہ یعنی محرم کی دسویں تاریخ کوروزہ رکھنے کا جو حکم ہے اس کی بنیاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادمبارک میں واضح طورپربیان ہوئی ہے وہ اس طورپرکہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کرگئے تویہودیوں کوعاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا، آپ نے ان سے روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی توانہوں نے بتایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اوران کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی، ہم اس کے شکر میں اس دن روزہ رکھتے ہیں توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ہم تواس بات کے زیادہ حقدارہیں کہ ہم اس دن بطورشکرروزہ رکھیں، اس کے بعد حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام عاشورہ کا روزہ رکھنے لگےپھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ دسویں کے ساتھ نویں کا یا گیارہویں کابھی روزہ رکھاجائے تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو لہٰذا نودس محرم یادس، گیارہ محرم کے دن روزہ رکھنا مستحب اورمسنون عمل ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200560
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں