بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مصنوعی ریشم کا شرعی حکم

سوال

مجھے ایک صاحب ملے جن کا تعلق ملتان سے تھاانہوں نے مجھ سے کہاکہ یہ جو آپ نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اس کپڑے کوکرنڈی کہتے ہیں جس میں کچھ پرنٹ ریشم ملا ہواہے لہٰذاآپ کی نماز نہیں پوگی۔کیا مردکے لیے ایسا کپڑاپہننا چائزہے جس میں کچھ پرنٹ ریشم ملی پوئی پواورکیا ریشم کاکپڑا پہننے سے یاوہ کپڑا جس میں کچھ ریشم ملاہواہونمازپہ کوئی اثرپڑتاہے۔

جواب

مصنوعی ریشم اصلی ریشم سے ہٹ کرہوتاہےجس کا استعمال مردوں کے لیے جائز ہےلہٰذا اگر کرنڈی کپڑے میں مصنوعی ریشم شامل ہے تواس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200559
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں