بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قتل خطاء کی دیت

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ایک نابا لغ لڑکی سے نابالغ لڑکی کا حادثاتی طورپر قتل ہوگیا ہے اورجس لڑکی کا قتل ہوا ہے وہ اس وجہ سے آٹھ مہینے جیل میں بھی رہ کے آچکی ہے اور اس کے والدین کے تین سے چارلاکھ روپے بھی لگ چکے ہیں اوراب اس لڑکی کے امی ابوکہہ رہے ہیں کہ جو شرعی لحاظ سے جتنے پیسے بنتے ہیں وہ دیدو توشرعی لحاظ سے کتنی رقم بنتی ہے جبکہ لڑکی جیل میں بھی رہ چکی ہے اور ان کے تین سے چارلاکھ روپے بھی لگ چکے ہیں ، برائے مہربانی جواب عنایت فرمادیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعتاً قاتلہ نابالغ لڑکی ہے تو اس کے دادھیالی رشتہ داروں کے ذمے لازم ہے کہ وہ تین سال کے اندر اندر مقتولہ لڑکی کے ورثاء کو آدھی دیت ادا کریں جس کی مقدارپانچ ہزار درھم مساوی 1312٫50تولہ چاندی یا پندرہ کلو اورتین سو نو گرام چاندی یا اس کے برابر کی قیمت ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200554
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں