بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مختلف اشیاء پر بنی جاندار کی تصویر کا حکم

سوال

ہم گھر میں بازار سے جو ضرورت کی جو چیزیں لا تے ہیں یا ہم سے کوئی دوسرا کوئی چیز منگواتا ہے تو بعض پر جاندار کی تصویریں ہوتی ہیں اور وہ چیزیں گھر میں رہتی ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بتائیں کہ جو چیزیں ہمارے گھر میں ہیں ان کا کیا حکم ہے اور ہمارے ذریعہ سے دوسرے کے گھر میں گئی ہیں کیا ہمیں ان کا گناہ ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں روزمرہ استعمال ہونے والی وہ اشیاء جو ڈبوں میں بند ہوکرآتے ہیں اوران ڈبوں پرجاندارکی تصویر بنی ہوئی ہوتی ہیں تو خریداری سے مقصودان اشیاء کی خریداری ہے نہ کہ تصاویر کی لہذا خریدنے والے گناہ گارنہیں ہوئے بلکہ بنانے والے ہوئے، ہاں اشیاء خریدنے کے بعد اس چیز کو کسی برتن میں منتقل کردیا جائے اوراس بنی ہوئی تصویر کو چھپایا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200553
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں