بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پوسٹ مارٹم کی شرعی حیثیت

سوال

آج کل ڈاکٹرحضرات میتوں کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں ، کیا یہ شرعاً جائز ہے ؟نیزڈاکٹر حضرات کن وجوہات کی بناء پرپوسٹ مارٹم کرتے ہیں؟

جواب

انسانی جسم کا احترام جس طرح زندہ ہونے کی حالت میں لازمی ہے اسی طرح فوت ہونے کے بعد انسانی لاش زندہ جسم کی طرح قابل احترام ہے، چونکہ پوسٹ مارٹم کرنے میں انسانی جسم کی توہین کا لازم آنا ظاہرہے کہ چیرپھاڑ کی جاتی ہے اور جسم کے گوشت ، ہڈی وغیرہ کوبطورنمونہ کے حاصل کیا جاتاہے اس لیے شرعاً پوسٹ مارٹم کی اجازت نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200552
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں