بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بجلی چوری کرنے کے لیے تاروں میں کنڈا ڈالنے کا حکم

سوال

مجھ سے ایک آدمی نے کہا کہ میں مہینے میں بہت تھوڑے پیسے کماتا ہوں اور بڑی مشکل سے گھرچلاتاہوں اورگھر میں بجلی کا بل بہت آتاہے میں پورانہیں کرپاتا کیا میں بجلی کے تاروں میں کنڈا ڈال سکتاہوں ؟برائے کرم میری پریشانی کا حل بتائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں بجلی کی چوری خواہ کنڈا ڈال کر ہویا کسی اور ذریعہ سے ہو، جائز نہیں ہےیہ ایک قومی دولت ہے جس میں ملک کے ہرفرد کا حق وابستہ ہے جس کی معافی کی صورت مستقبل میں نہایت مشکل ہے لہٰذا بجلی کی چوری سے اجتناب کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200551
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں