بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

افزائش نسل رکوانے کے لیے نس بندی کا حکم

سوال

پہلی اولاد کے بعد زوجہ کے یا خود کے اصرارپرافزائش نسل روکوانے کے کسی بھی قسم کا طریقہ اختیارکریں بغیرکسی عذر کے توکیا کوئی بھی عمل جوافزائشِ نسل رکوانےکاباعث بنےکیاوہ عمل اختیار کرناجائزہوگایانہیں، شرعی حکم کیا ہے اس سلسلے میں۔

جواب

بغیرکسی شرعی عذر کے کوئی بھی ایسا عمل جو مستقل طورپر نسل بندی کے لیے ہو شرعاً ناجائز اورحرام ہے اوراس میں کفرانِ نعمت اورحدوداللہ سے تجاوز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200548
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں