بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جھنیگے کا حکم

سوال

مجھے یہ پوچھنا پے کہ جھینگا کھانا حلال ہے یا حرام ؟آج کل عوام الناس اس کورغبت کے ساتھ کھارہے ہیں ؟

جواب

جھینگے کومچھلی کی ایک قسم قرار دے کرکھانے والےاسےکھاتے ہیں اوربعض علماء اسے مچھلی کی قسم قرارنہیں دیتے، وہ اسے ناجائز کہتےہیں۔ بہرحال اختلاف ہے، ہمارے ہاں کے بعض اہل فتویٰ جھینگے کے حلال ہونے کے قائل ہیں۔ پس جن حضرات کو جن علماء کی رائے اورفتویٰ پر اعتماد ہووہ ان کے فتویٰ پر عمل کرسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200543
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں