بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو کمروں پر مشتمل مسجد میں جماعت کا حکم

سوال

ایک مسجد دو کمروں پر مشتمل ہے جن کے درمیان میں ایک دروازہ ہے کیا اس مسجد میں جماعت اس طریقے سے کروائی جا سکتی ہے کے امام صاب ایک کمرے میں نماز پڑھیں اور لوگ دونوں کمروں میں ان کی اقتدا کریں جبکے دوسرے کمرے کی صفحوں اور پہلے کمرے کی صفحوں کے درمیان دیوار کی وجہہ سے رکاوٹ ہو؟ مزید وضاحت کریں کے دوسرے کمرے والوں کی نماز باجماعت تصور ہو گی یا کہ فردا ؟

جواب

اگر امام یا مکبر کی آواز آرہی ہو یا اگلے کمرے والوں کی رکوع و سجود کی کیفیات نظر آرہی ہوں تو پچھلے کمرے والوں کی اقتداء درست ہے اور ان کی نماز باجماعت ہی سمجھی جائے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200540
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں