بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تفریح کے لیے ساحل سمندر وغیرہ جانے کاحکم

سوال

شریعت کے مطابق تفریح کی غرض سے کسی ساحل سمندر پر جانا کیسا ہے؟ یا روز مرہ کی مصروفیت سے اکتا کر تبدیلی کی غرض سے ؟

جواب

اگرکسی شرعی امرکی خلاف ورزی نہ ہوتو جائزہے۔ شریعت جائزتفریحات کومنع نہیں کرتی بلکہ صحت افزاء تفریح مطلوب ہے لیکن ساحل یادیگرتفریحی مقامات پرجہاں برھنگی کےحیاء سوزمناظرعام ہوں، لغویات اوربدنظری کے گناہ میں مبتلا ہونے کا غالب اندیشہ ہو،تفریحی مناظرمیں منہمک ہوکر نمازاوردیگرفرائض میں تاخیراورغفلت کا ارتکاب لازم آتاہوتوایسی تفریح اورتفریحی مقامات پرجانا شرعاً درست نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200527
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں