بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سے قرض لیکر حج کے لیے جانا

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ پاکستان میں بہت سارے بینک حج کے لیے بغیر سود کے قرضہ فراہم کرتے ہیں۔ کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے کہ بینک سے غیر سودی قرضہ لیا جائے اورکچھ فیصدابتداءً اوربقیہ حج کے بعد قسطوارادا کیا جائے۔اگرنہیں توپھر میزان، دبئی اسلامک بینک وغیرہ کیوں اس کی پیشکش کرتے ہیں ؟

جواب

حج فرض ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بندہ صاحبِ نصاب ہواگرکوئی شخص صاحب استطاعت ہی نہیں تواس پر حج فرض ہی نہیں ہے، چہ جائیکہ وہ قرض لے کر حج پر جانے کا التزام کرے۔ اس لیے اگرکسی کے پاس حج کی فرضیت کے بقدر رقم یعنی آمدورفت اوروہاں کے قیام وطعام اوراپنے ملک میں بیوی بچوں کے واپسی تک کے اخراجات نہ ہوں تواس پر حج فرض نہیں ہےلہٰذا جب حج فرض نہیں توکسی بینک یاکسی شخص سے قرضہ لے کر حج پرجانے کی ضرورت نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200525
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں