بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زیر ناف بالوں کاحکم

سوال

1:. ناف کے بال صاف کرنے کی حدود واضح فرمائیں ، نیز یہ کتنے عرصہ کے اندر صاف کرنے کا حکم ہے؟2:۔ آیا یہ بال بلیڈ کے علاوہ کسی اور چیز (مثلا بال صفا کریم) سے صاف کئے جاسکتے ہیں۔؟جزاک اللہ

جواب

اصل بنیاد یہ ہے کہ جسم کا وہ حصہ جس کے پراگندہ ہونے کا خدشہ رہتا ہے یا وہ پراگندہ ہو تا رہتا ہے اسے صاف رکھا جائے، عضو مخصوص کی طرف سے بالائی حصہ کی طرف مثانہ کی حدود تک تقیربا یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے، یہ صفائی ہر ہفتہ جمعہ کے روز مستحب ہے ، اس کا موقع نہیں تو پندہ روز منیں صفائی کردی جائے۔ چالیس دن تک مؤخر کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ 2:۔ مقصود صفائی ہے خواہ ان بالوں کو منڈا جائے یا کسی کریم وغیرہ سے اڑا یا جائے یا کتر دیا جائے، التبہ مرد کے لیے استرے یا بلیڈ کا استعمال زیادہ بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200524
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں