بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قضاء فرضی و نوفل وقتی میں ترجیح کا حکم

سوال

مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ کسی بندہ کے ذمے قضاء نمازیں باقی ہوں توکیا اسے نوافل زیادہ نہیں پڑھنی چاہئے؟اورکیا یہ بندہ سنتوں کی جگہ فرض کی قضاء کرسکتا ہے یا پہلے وقتی نمازکی سنتیں ادا کرے پھراس کی قضاء ؟

جواب

جی ہاں ایسے شخص کو نوافل کے بجائے قضاء نمازوں کی ادائیگی پہلے کرنی چاہئے ، اسی طرح وقتی نماز میں بھی نیت غیر موکدہ کے بجائے قضاء نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام کرے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200515
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں