بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کا نماز میں جہرا قراٗت کرنا

سوال

ہم نے نمازکےواجبات میں سے پڑھاہےکہ عورت کو ہرنماز(جہری ہویاسری) قرأت آہستہ پڑھنی ہے۔اب سوال یہ ہےکہ ایسےکمرہ میں جہاں کوئی غیرمحرم نہ ہوتوکیاوہ مغرب، عشاءاورفجرکی نمازمیں قرأت کوتھوڑی آوازسے پڑھ سکتی ہے۔ اگرکوئی ایسی ہی نمازپڑھ چکی ہوتواس کو نمازکااعادہ کرنا پڑے گا۔

جواب

یہ مسئلہ درست ہے کہ عورت ہرنماز(سری ہویا جہری) میں قرأت آہستہ آوازسے کرے گی۔ خواہ اکیلی ہویا محارم کے سامنےہو،البتہ اگرکبھی اس کے خلاف کرلیا ہوتووہ نماز ہوگئی اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ (شامی1/504) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200506
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں