بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صبح صادق کے بعد نفل پڑھنے کا حکم

سوال

مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کسی نے مجھ سے کہااگرفجر کاوقت داخل ہوجائے اورکوئی لاعلمی میں تہجد کے دونفل پڑھ لے پھراس کو معلوم ہوکہ یہ توفجرکا وقت ہے تواس پہ دونفل فجرکی سنت بن جائیں گے،کیا یہ درست ہے ؟اسی طرح آج کل صبح صادق کاوقت تقریباً سواچارہے جبکہ اذان 4:45 تک شروع ہوتی ہےتو کیا صبح صادق ہونے کےبعدفجر کی نمازپڑھ سکتے ہیں یاتہجد پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

یہ مسئلہ درست ہے کہ اگرصبح صادق کے بعد لاعلمی میں تہجد کی نفل پڑھ لی جائیں تووہ فجرکی سنتوں کے قائم مقام ہوجاتی ہیں۔(شامی1/374) 2۔ صبح صادق ہوجانے کے بعد فجر پڑھ سکتے ہیں ،تہجد نہیں پڑھ سکتے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200502
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں