بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حائضہ عورت کے لیے قرآن کریم پڑھنے اور چھونے کی ممانعت

سوال

ہم لوگ شارجہ میں رہتے ہیں میری اہلیہ حفظِ قرآن کے لیے مدرسے جاتی ہیں ۔یہا ں کے علماء کے نزدیک حیض کے دنوں میں عورت قرآن پڑھ سکتی ہے،صرف پکڑ نہیں سکتی۔ان کی کتاب میں ہم نے پڑھا قرآن پڑھنے کی ممانعت صرف جنبی کے لیے ہے اس پرحائضہ کو قیا س کرنا ٹھیک نہیں ۔مہربانی فرماکر اس کی بھی وضاحت فرمادیں۔

جواب

جس طرح حائضہ عورت قرآن کریم کو چھو نہیں سکتی ،اسی طرح ترمذی اور ابن ماجہ کی واضح روایت ہے کہ حائضہ عورت قرآن کریم کی تلاوت بھی نہیں کرسکتی ۔دونوں حکموں میں فرق کرنا بغیر دلیل کے ہے ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143101200497
تاریخ01-01-2010

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں